حدیث نمبر :176
حدیث کی تائید : درست
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  آگ سے پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔

حدیث نمبر :177
حدیث کی تائید : درست
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  آگ کی پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔

حدیث نمبر :178
حدیث کی تائید : درست
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  آگ کی پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔

حدیث نمبر :179
حدیث کی تائید : درست
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:  آگ کی پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔

حدیث نمبر :180
حدیث کی تائید : درست
وہ اپنی خالہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے مجھے ستو پلایا، پھر کہا: بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:  آگ کی پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔

حدیث نمبر :181
حدیث کی تائید : درست
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا  ( جب انہوں نے ستو پیا )  بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے:  آگ کی پکی چیز  ( کھانے )  سے وضو کرو ۔

حدیث نمبر :182
حدیث کی تائید : درست
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ( بکری کی )  دست کھائی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔

حدیث نمبر :183
حدیث کی تائید : درست
میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں  ( بلکہ جماع سے )  صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے،  ( محمد بن یوسف کہتے ہیں: )  اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ  ( یہ بھی )  بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو  ( گوشت کا ٹکڑا )  پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔

حدیث نمبر :184
حدیث کی تائید : درست
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔

حدیث نمبر :185
حدیث کی تائید : درست
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں  ( آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے )  میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔

حدیث نمبر :186
حدیث کی تائید : درست
وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا  ( جو خیبر سے قریب ہے ) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے  ( بھی )  کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔

حدیث نمبر :187
حدیث کی تائید : درست
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا:  اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔

حدیث نمبر :188
حدیث کی تائید : درست
وہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ۱؎۔

حدیث نمبر :189
حدیث کی تائید : درست
ثمامہ بن اثال حنفی ۱؎ مسجد نبوی کے قریب پانی کے پاس آئے، اور غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اے محمد! اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا، اور اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو گیا ہے، اور آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے، اور حال یہ ہے کہ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو اب آپ کا کیا خیال ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی، اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں،  ( یہ حدیث یہاں مختصراً مذکور ہے ) ۔

حدیث نمبر :190
حدیث کی تائید : درست
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابوطالب مر گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جاؤ انہیں گاڑ دو  تو انہوں نے کہا: وہ شرک کی حالت میں مرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جاؤ انہیں گاڑ دو ، چنانچہ جب میں انہیں گاڑ کر آپ کے پاس واپس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:  غسل کر لو ۔

حدیث نمبر :191
حدیث کی تائید : درست
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب مرد، اس  ( عورت )  کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے  ۱؎۔

حدیث نمبر :192
حدیث کی تائید : درست
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہو گیا ۔ ابوعبدالرحمٰن  ( نسائی )  کہتے ہیں: اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ اشعث نے اسے بواسطہ حسن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، نیز یہ حدیث بواسطہ شعبہ نضر بن شمیل وغیرہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ اسے خالد نے روایت کی ہے، یعنی: بطریق «قتادة عن الحسن، عن أبي رافع، عن أبي هريرة»۔

حدیث نمبر :193
حدیث کی تائید : درست
میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:  جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، اور جب پانی  ( منی )  کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو ۔

حدیث نمبر :194
حدیث کی تائید : درست
میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ۱؎، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب مذی دیکھو تو وضو کر لو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی  ( منی )  کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو  ۲؎۔

حدیث نمبر :195
حدیث کی تائید : درست
ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب وہ انزال کرے تو غسل کرے ۔