حدیث نمبر :7543
حدیث کی تائید : درست
مجھ سے عبد الرحمٰن بن ایزدی نے کہا : کہ میں ( ان کے لیے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دوآیتوں کے متعلق دریافت کروں : " اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے ، اس کی سزا جہنم ہے ور اس میں ہمیشہ رہے گا ۔ " میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا ۔ اور اس آیت کے متعلق ( پوچھا ) اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کواللہ نے حرام کیا ہے ۔ " تو انھوں نے کہا : مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

حدیث نمبر :7544
حدیث کی تائید : درست
یہ آیت : " جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے " سے لے کر " ذلت کے عالم میں ( ہمیشہ رہے گا ) تک مکہ میں نازل ہوئی ۔ مشرکوں نے کہا : ہمیں اسلام کس بات کا فائدہ دے گا ۔ جبکہ ہم اللہ کے ساتھ ( دوسروں کو ) شریک بھی ٹھہراچکے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو قتل بھی کر چکے ہیں اور فواحش کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں ؟اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " سوائے اس شخص کے جس نے تو بہ کی ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے " آیت کے آخری حصے تک ۔ انھوں نے ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : لیکن جو شخص اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کو سمجھ لیا پھر اس نے ( عمداً کسی مومن کو ) قتل کیا تو اس کے لیے کوئی توبہ نہیں ۔

حدیث نمبر :7545
حدیث کی تائید : درست
میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمدا قتل کر دیا اس کے لیے توبہ ( کی گنجائش ) ہے؟انھوں نے کہا : نہیں ( سعید بن جبیرنے ) کہا : پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی ۔ " وہ لوگ جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے " آیت کے آخر تک انھوں نے کہا : یہ مکی آیت ہےاس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا : " اور جو کسی مومن کو عمدا قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ۔

حدیث نمبر :7546
حدیث کی تائید : درست
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی آخری سورت جو یکبارگی مکمل نازل ہوئی کون سی ہے؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ انھوں نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور "" آخری "" ( کالفظ ) نہیں کہا ۔

حدیث نمبر :7547
حدیث کی تائید : درست
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ابو معاویہ نے کہا , ہمیں ابو عمیس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " آخری سورت " اور انھوں نے ( راوی کا نام لیتے ہوئے ) عبدالمجید ( سے مروی ) کہا : اور ابن سہیل ( عبد المجید بن سہیل ) نہیں کہا ۔

حدیث نمبر :7548
حدیث کی تائید : درست
مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو کو ملے جو بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے ( ان کو دیکھ کر ) کہا : السلام علیکم ۔ تو ( اس کے باوجود ) انھوں نے اس کو پکڑا اسے قتل کیا اور بکریوں کا وہ چھوٹا ساریوڑ لے لیا ۔ تو یہ آیت اتری : "" اور اسے جو تم سے سلام کہے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو ۔ "" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس ( السلم ) کو السلام پڑھا ۔

حدیث نمبر :7549
حدیث کی تائید : درست
انصار جب حج کر کے واپس آتے تو گھروں میں ( دروازوں کے بجائے ) ان کے پچھواڑے ہی سے داخل ہوتے انصار میں سے ایک شخص آیا اور اپنے دروازے سے ( گھر کے اندر ) داخل ہوا تو اس کے بارے میں اس پر باتیں کی گئیں تو یہ آیت اتری : " اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے اندران کے پچھواڑوں سے آؤ ۔ "

حدیث نمبر :7550
حدیث کی تائید : درست
ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔ "

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ کی یاد سے متاثر ہوں‘‘۔

حدیث نمبر :7551
حدیث کی تائید : درست
( جاہلی دور میں ) ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ کاطواف کرتی تھی اور کہتی تھی : کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے ، اور ( یہ شعر ) کہتی : آج ( بدن کا ) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائےگا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے ( دیکھنا کسی کے لئے ) حلال نہیں کررہی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو ۔ "

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اے بنی آدم! نماز کی حالت میں اپنی زینت بنو۔"

حدیث نمبر :7552
حدیث کی تائید : درست
عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا : جا اور ( بذریعہ بدکاری ) ہمارے لیے کچھ کما کرلا ، تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی؛ " اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ ( خصوصاً ) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد " ان کے لیے " بڑا بخشنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔ "

اللہ کا فرمان ہے: "اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو"

حدیث نمبر :7553
حدیث کی تائید : درست
عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی ، اس کا نام مسیکہ تھا ، اوردوسری ( باندی ) کو امیمہ کہا جاتا تھا ۔ وہ ان دونوں سے ( زبردستی ) زنا کرانا چاہتا تھا ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت : " اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ۔ " اس ( اللہ ) کے فرمان : " بڑا بخشنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔ " تک نازل فرمائی ۔

حدیث نمبر :7554
حدیث کی تائید : درست
" وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور ( اس سے پہلے ) ان کی پوجاکی جاتی تھی ، تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے ، ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی ۔

اللہ کی حفاظت: "جن کو وہ اپنے رب (اللہ) تک رسائی کا ذریعہ پکارتے ہیں"

حدیث نمبر :7555
حدیث کی تائید : درست
" وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی ، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کرلیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے ۔ اس پر ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف ( کسی نیک عمل کا ) وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ "

حدیث نمبر :7556
حدیث کی تائید : درست
اور مجھ سے بشر بن خالد نے کہا, ہم سے محمد نے بیان کیا، یعنی ابن جعفر نے, شعبہ نے سلیمان ( اعمش ) سے اسی سندکے ساتھ یہی روایت کی ۔

حدیث نمبر :7557
حدیث کی تائید : درست
" وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود اپنے رب کی طرف ( کسی نیک عمل کا ) و سیلہ ڈھونڈتے ہیں ہیں ۔ " انھوں نے کہا : یہ ( آیت ) عربوں کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ جنوں نے اسلام قبول کرلیا جبکہ وہ انسان جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے ، انھیں پتہ تک نہ چلا ۔ اس پر یہ آیت اتری : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں ، وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کر تے ہیں ۔ "

حدیث نمبر :7558
حدیث کی تائید : درست
میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ اور کہا کہ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے ( کافروں اور منافقوں کی ) ۔ اس سورت میں برابر اترتا رہا کہ ”اور ان میں سے“ ”اور ان میں سے“ یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا کہ وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے ( اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں ) ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا کہ وہ بنی نضیر ( کے انجام ) کے بارے میں نازل ہوئی ۔

سورۃ براء (التوبہ)، الانفال اور الحشر

حدیث نمبر :7559
حدیث کی تائید : درست
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ( کھڑے ہوکر ) خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی ، پھر کہا : اس کے بعد : سنو !شراب کی حرمت نازل ہوئی ، جس دن وہ نازل ہوئی ( اس وقت ) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی ۔ گندم ، جو ، خشک کھجور ، انگور اور شہد سے ، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ۔ اورلوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب ۔

حدیث نمبر :7560
حدیث کی تائید : درست
میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا : حمد وثنا کےبعد ، لوگو!شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی ، انگور ، کھجور ، شہد ، گندم اور جو سے اور خمر ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے ۔ لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطیعت سے واضح فرمادیتے : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کی صورتوں میں سے چند صورتیں ۔

حدیث نمبر :7561
حدیث کی تائید : درست
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, اسماعیل بن علیہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن علیہ کی حدیث میں ہے : انگور ، جس طرح ابن ادریس نے کہا ہے ۔ اور عیسیٰ کی روایت میں کشمش ہے ۔ جس طرح ابن مسہر نے کہا ہے ۔

حدیث نمبر :7562
حدیث کی تائید : درست
میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’یہ دونوں مخالف اپنے رب کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں‘‘۔