حدیث نمبر :20
حدیث کی تائید : درست
انہوں نے کہا : ہم رسول اللہﷺ کی احادیث حفظ کرتے تھے اور رسول اللہﷺ سے ( مروی ) حدیث کی حفاظت کی جاتی تھیں مگر جب سے تم لوگوں نے ( بغیر تمیز کے ) ہر مشکل اور آسان پر سواری شروع کر دی تو یہ ( معاملہ ) دو رہو گیا ( یہ بعید ہو گیا کہ ہماری طرح کے محتاط لوگ اس طرح بیان کردہ احادیث کو قبول کریں ، پھر یاد رکھیں ۔ )

حدیث نمبر :21
حدیث کی تائید : درست
بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے ۔

حدیث نمبر :22
حدیث کی تائید : درست
انہوں نے کہا : میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی طرف لکھا اور ان سے درخواست کی کہ وہ میرے لیے ایک کتاب لکھیں اور ( جن باتوں کی صحت میں مقال ہو یا جو نہ لکھنے کی ہوں وہ ) باتیں مجھ سے چھپا لیں ۔ انہوں نے فرمایا : لڑکا خالص احادیث کا طلبگار ہے ، میں اس کے لیے ( حدیث سے متعلق ) تمام معاملات میں ( صحیح کا ) انتخاب کروں گا اور ( موضوع اور گھڑی ہوئی احادیث کو ) ہٹا دوں گا ( کہا : انہوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے فیصلے منگوائے ) اور ان میں سے چیزیں لکھنی شروع کیں اور ( یہ ہوا کہ ) کوئی چیز گزرتی تو فرماتے : بخدا! یہ فیصلہ حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نہیں کیا ، سوائے اس کے کہ ( خدانخواستہ ) وہ گمراہ ہو گئے ہوں ( جب کہ ایسا نہیں ہوا ۔ )

حدیث نمبر :23
حدیث کی تائید : درست
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس ایک کتاب لائی گئی جس میں حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے فیصلے ( لکھے ہوئے ) تھے تو انہوں نے اس قدر چھوڑ کر باقی ( سب کچھ ) مٹا دیا اور سفیان بن عیینہ نے ہاتھ ( جتنی لمبائی ) کا اشارہ کیا ۔

حدیث نمبر :24
حدیث کی تائید : درست
انہوں نے کہا : جب ( بظاہر حضرت علی کا نام لینے والے ) لوگوں نے حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بعد ( ان کے نام پر ) یہ چیزیں ایجاد کر لیں تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ ان ( لوگوں ) کو قتل کرے! انہوں نے کیسا ( عظیم الشان ) علم بگاڑ دیا ۔

حدیث نمبر :25
حدیث کی تائید : درست
کہا : میں نے مغیرہ سے سنا ، فرماتے تھے : حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے مروی احادیث میں کسی چیز کی تصدیق نہ کی جاتی تھی ، سوائے اس کے جو عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے شاگردوں سے روایت کی گئی ہو ۔

حدیث نمبر :26
حدیث کی تائید : درست
یہ علم ، دین ہے ، اس لیے ( اچھی طرح ) دیکھ لو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہو ۔

وہ جو بیانات سے متعلق ہے 'بیان کا سلسلہ مذہب سے ہے'؛ 'ٹرانسمیشنز نہیں لی جاتی ہیں سوائے ثقہ راویوں کے'؛ اور راویوں پر تنقید جو ان کے بارے میں جائز ہے، حتی کہ واجب ہے اور یہ کہ یہ غیبت کی ممنوع قسم نہیں ہے، بلکہ یہ شریعت کا دفاع ہے۔

حدیث نمبر :27
حدیث کی تائید : درست
کہا : ( ابتدائی دور میں عالمان حدیث ) اسناد کے بارے میں کوئی سوال نہ کرتے تھے ، جب فتنہ پڑ گیا تو انہوں نے کہا : ہمارے سامنے اپنے رجال ( حدیث ) کے نام لو تاکہ اہل سنت کو دیکھ کر ان سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی حدیث قبول نہ کی جائے.

حدیث نمبر :28
حدیث کی تائید : درست
انھوں نے کہا، میں طاوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملا اور ان سے کہا،مجھےشخص نے اس اس طرح حدیث سنائی، انھوں کہا ’اگر تمہارے صاحب ( استاد ) پوری طرح قابل اعتماد ہیں توان سے اخذ کر لو ۔

حدیث نمبر :29
حدیث کی تائید : درست
انہوں نے کہا : میں نے طاوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے عرض کی : فلاں نے ان ان الفاظ سے مجھے حدیث سنائی ۔ انہوں نے کہا : اگر تمہارے صاحب ثقاہت میں بھر پو ہیں تو ان سے اخذ کر لو ۔

حدیث نمبر :30
حدیث کی تائید : درست
انہوں نےکہا : میں مدینہ میں سو ( اہل علم ) سے ملا جو ( دین میں تو ) محفوظ ومامون تھے ( لیکن ) ان سے حدیث اخذ نہیں کی جاتی تھیں ، کہا جاتا تھا یہ اس ( علم ) کے اہل نہیں

حدیث نمبر :31
حدیث کی تائید : درست
کہا : میں نے سعد بن ابراہیم ( بن عبد الرحمن بن عوف ) سے سنا ، کہہ رہے تھے : ثقہ راویوں کے علاوہ اور نہ کوئی شخص رسول اللہﷺ سے حدیث بیان نہ کرے ۔

حدیث نمبر :32
حدیث کی تائید : درست
اسناد ( سلسلہ سند سے حدیث روایت کرنا ) دین میں سے ہے ۔ اگر اسناد نہ ہوتا تو جو کوئی جو کچھ چاہتا ، کہہ دیتا ۔ ( امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : اور محمد بن عبد اللہ نے کہا : مجھے عباس بن ابی رزمہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عبد اللہ ( بن مبارک ) کو یہ کہتے ہوئے سنا : ہمارے اور لوگوں کے درمیان ( فیصلہ کن چیز ، بیان کی جانے والی خبروں کے ) پاؤں ، یعنی سندیں ہیں ( جن پر روایات اس طرح کھڑی ہوتی ہیں جس طرح جاندار اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ )

حدیث نمبر :33
حدیث کی تائید : درست
کہا : میں قاسم بن عبید اللہ ( بن عبد اللہ بن بن عمر جن کی والدہ ام عبد اللہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر تھیں ) اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ یحییٰ نے قاسم بن عبید اللہ سے کہا : جناب ابو محمد! آپ جیسی شخصیت کے لیے یہ عیب ہے ، بہت بڑی بات ہے کہ آپ سے اس دین کے کسی معاملے کے بارے میں ( کچھ ) پوچھا جائے اور آپ کے پاس اس کے حوالے سے نہ علم ہو نہ کوئی حل یا ( یہ الفاظ کہے ) نہ علم ہو نہ نکلنے کی کوئی راہ ۔ تو قاسم نے ان سے کہا : کس وجہ سے؟ ( یحییٰ نے ) کہا : کیونکہ آپ ہدایت کے دو اماموں ابو بکر اور عمرؓ کے فرزند ہیں ۔ کہا : قاسم اس سے کہنے لگے : جس شخص کو اللہ کی طرف سے عقل ملی ہو ، اس کے نزدیک اس سے بھی بد تر بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہہ دوں یا اس سے روایت کروں جو ثقہ نہ ہو ۔ ( یہ سن کر یحییٰ ) خاموش ہو گئے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا ۔

حدیث کے نقل کرنے والوں کے نقائص اور احادیث کے متعلقین اور اس کے متعلق ائمہ کے بیانات کا پردہ فاش کرنا

حدیث نمبر :34
حدیث کی تائید : درست
میں اس کو بہت بڑی بات سمجھتا ہوں کہ آپ جیسے انسان سے ( جبکہ آپ ہدایت کے وو اماموں یعنی عمر اور ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے ہیں ، کوئی بات پوچھی جائے ( اور ) اس کےب ارے میں آپ کو کچھ علم نہ ہو ۔ انہوں نے کہا : بخدا! اللہ کے نزدیک اور اس شخص کے نزدیک جسے اللہ نے عقل دی اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ میں علم کے بغیر کچھ کہوں یا کسی ایسے شخص سے روایت کروں جو ثقہ نہیں ۔ ( سفیان نے ) کہا : ابو عقیل یحییٰ بن متوکل ( بھی ) ان کے پاس موجود تھے جب انہوں نے یہ بات کی ۔

حدیث نمبر :35
حدیث کی تائید : درست
میں نے سفیان ثوری ، شعبہ ، مالک اور ابن عیینہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جو حدیث میں پور ی طرح قابل اعتماد ( ثقہ ) نہ ہو ، پھر کوئی آدمی آئے اور مجھ سے اس کے بارے میں سوال کرے؟ تو ان سب نے کہا : اس کے بارے میں بتا دو کہ وہ پوری طرح قابل اعتماد نہیں ہے

حدیث نمبر :36
حدیث کی تائید : درست
۔ نضر کہتے ہیں کہ ابن عون سے شہر ( بن حوشب ) کی حدیث کے بارے میں سوال کیا گیا ، ( اس وقت ) وہ ( اپنی ) دہلیز پر کھڑے تھے ، وہ کہنے لگے : انہوں ( محدثین ) نے یقینا شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ، انہوں نے شہر کو مطعون ٹھہرایا ہے ۔ امام مسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : لوگوں کی زبانوں نے انہیں نشانہ بنایا ، ان کے بارے میں باتیں کیں ۔

حدیث نمبر :37
حدیث کی تائید : درست
میں شہر سے ملا لیکن ( روایت حدیث کے حوالے سے ) میں نے انہیں اہمیت نہ دی ۔

حدیث نمبر :38
حدیث کی تائید : درست
بلاشبہ عباد بن کثیر ایسا ہے جس کا حال آپ کو معلوم ہے ۔ جب وہ حدیث بیان کرتا ہے تو بڑی بات کرتا ہے ، کیا آپ کی رائے ہے کہ میں لوگوں سے کہہ دیا کروں اس سے ( حدیث ) نہ لو؟ سفیان کہنےلگے : کیوں نہیں! عبد اللہ نے کہا : پھر یہ ( میرا معمول ) ہو گیا کہ جب میں کسی ( علمی ) مجلس میں ہوتا جہاں عباد کا ذکر ہوتا تو میں دین کے حوالے سے اس کی تعریف کرتا اور ( ساتھ یہ بھی ) کہتا : اس سے ( حدیث ) نہ لو ۔ ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا : ہم سے عبد اللہ بن عثمان نے بیان کیا ، کہا : میرے والد نے کہا : عبد اللہ بن مبارک نے کہا : میں شعبہ تک پہنچا تو انہوں نے ( بھی ) کہا : یہ عباد بن کثیر ہے تم لوگ اس سے ( حدیث بیان کرنے میں ) احتیاط کرو

حدیث نمبر :39
حدیث کی تائید : درست
میں اس کے دروزاے پر تھا ، سفیان اس کے پاس موجود تھے جب وہ باہر نکل گیا تو میں نے ان ( سفیان ) سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کذاب ہے ۔