حدیث نمبر :60
حدیث کی تائید : درست
ایوب نے ایک دن ایک شخص کا ذکر کیا اور کہا : وہ کج زبان ( جھوٹا ، تہمت تراش اور بد زبان ) تھا اور دوسرے کا ذکر کیا تو کہا : وہ رقم ( اشیاء پر لکھی ہوئی قیمت ) میں اضافہ کر دیتا تھا ۔

حدیث نمبر :61
حدیث کی تائید : درست
میرا ایک ہمسایہ ہے ، پھر ( زہد وورع میں ) اس کی فضیلت کا ذکر کیا ، اگر وہ میرے سامنے دو کجھوروں کے بارے میں گواہی دے تو میں ( اس میں بھی ) اس کی شہادت قابل قبول نہ سمجھوں گا ۔

حدیث نمبر :62
حدیث کی تائید : درست
معمر نے کہا .’میں نے ایورب کو کبھی کسی کی پیٹھ پیچھے اسے برا کہتے نہیں سنا ‘ سوائے عبدالکریم ‘ یعنی ابو امیہ کے ۔ انھوں نے اس کا ذکر کیا تو کہا .’اللہ اس پر رحم کرے ‘ غیر ثقہ ہے ‘ اس نے مجھ سے عکرمہ سے روایت کی گئی ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا ، پھر ( لوگوں سے ) کہا : میں نے عکرمہ سے سنا ہے ۔

حدیث نمبر :63
حدیث کی تائید : درست
ہمیں زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے حدیث بیان کی ۔ ہم نے یہ بات قتادہ کو بتائی ، انہوں نے کہا : اس نے جھوٹ بولا ۔ اس نے ان سے نہیں سنا ، وہ تو ایک منگتا تھا ، انسانوں کی بیخ کنی کرنے والے طاعون ( کے دوران ) میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھرتا تھا

حدیث نمبر :64
حدیث کی تائید : درست
اسے یہ زعم ہے کہ اس نے اٹھارہ بدری صحابہ سے ملاقات کی ۔ اس پر قتادہ کہنے لگے : ( طاعون کی ) وبائے عام سے پہلے یہ ایک منگتا تھا ، اس کا ( علم حدیث ) ایسی کسی چیز سے کوئی سروکار نہ تھا ، وہ اس بارے میں بات تک نہ کرتا تھا ۔ بخدا نہ حسن ( بصری ) نے ( کبھی ) کسی بدری سے بلاواسطہ حدیث ہمیں سنائی نہ سعید بن مسیب نے ایک سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے سوا کسی اور بدری سے براہ راست سنی ہوئی کوئی حدیث سنائی.

حدیث نمبر :65
حدیث کی تائید : درست
ابو جعفر ( عبد اللہ بن مسعود بن عون بن جعفر بن ابی طالب ) ہاشمی مدائنی احادیث گھڑا کرتا تھا ، سچائی ( یا حکمت ) پر مبنی کلام ( پیش کرتا ) وہ کلام رسول اللہﷺ کے فرامین میں سے نہ ہوتا تھا لیکن اسے وہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتا تھا

حدیث نمبر :66
حدیث کی تائید : درست
عمرو بن عبید ( معروف معتزلی جو پہلے حضرت حسن بصری کی مجلس میں حاضر رہا کرتا تھا ) حدیث ( کی روایت ) میں جھوٹ بولا کرتا تھا ۔

حدیث نمبر :67
حدیث کی تائید : درست
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا تو وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : بخدا! عمرو نے ( اس حدیث کی روایت حسن بصری کی طرف منسوب کرنے میں ) جھوٹ بولا لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس ( صحیح حدیث ) کو اپنی جھوٹی بات سے ملا دے ۔

حدیث نمبر :68
حدیث کی تائید : درست
ایک دن میں ایوب کے ساتھ تھا ، ہم صبح سویرے بازار کی طرف گئے تو اس آدمی نے ایوب کا استقبال کیا ۔ ایوب نے اسے سلام کہا اور ( حال احوال ) پوچھا ، پھر ایوب کہنے لگے : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم اس آدمی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہو ۔ حماد نے کہا : انہوں نے اس کا ، یعنی عمرو کا نام لیا ۔ وہ کہنےلگا : ہاں ، جناب ابو بکر! وہ غرائب ( ایسی باتیں جنہیں کوئی نہیں جانتا ) ہمارے سامنے لاتا ہے ۔ کہا : ایوب اس سے کہنے لگے : ہم انہی ( عجیب و ) غریب باتوں سے بھاگتے ہیں یا ڈرتے ہیں ( کہ یہ جھوٹی اور من گھڑت ہوتی ہیں ۔ )

حدیث نمبر :69
حدیث کی تائید : درست
جسے نبیذ ( شراب ) سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے نہ مارے جائں ۔ تو انہوں نے ( ایوب سختیانی ) نے کہا : اس نے جھوٹ بولا ، میں نے ( خود ) حسن سے سنا ، وہ کہتےتھے : جسے نبیذ سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے مارے جائیں ۔

حدیث نمبر :70
حدیث کی تائید : درست
میں عمرو ( بن عبید ) کے ہاں ( درس میں ) جاتا ہوں تو ایک دن وہ میرے پاس آئے اور کہا .’تم نے غور کیا ایک ایسا آدمی آیا جس کے دین پرتمہیں اعتبار نہ ہو ‘ تم اس کی حدیث پر اعتماد نہ کرو گے!

حدیث نمبر :71
حدیث کی تائید : درست
ہمیں عمرو بن عبید نے بدعت کا شکار ہونے سے پہلے حدیث سنائی ۔

حدیث نمبر :72
حدیث کی تائید : درست
میں نے واسط کے قاضی ابو شیبہ کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے شعبہ کی طرف لکھا تو انہوں نے جواب میں میری طرف لکھ بھیجا ، اس سے کوئی چیز روایت نہ کرو اور میرا خط پھاڑ دو ۔

حدیث نمبر :73
حدیث کی تائید : درست
۔ عفان ( بن مسلم ) نے کہا : میں نے حماد بن سلمہ کو صالح مری کے واسطے سے ایک حدیث سنائی جو اس نے ثابت سے روایت کی تو انہوں نے ( حماد ) نے کہا : اس نے جھوٹ بولا ۔ ( اسی طرح ) میں نے ہمام کو صالح مری سے ایک حدیث سنائی تو انہوں نے بھی کہا : اس نے جھوٹ بولا ۔

حدیث نمبر :74
حدیث کی تائید : درست
اس نے ہمیں حَکم سے ( روایت کردہ ) احادیث سنائیں جن کی ہم نے اصل نہ پائی ۔ ( کہا ) میں نے عرض کی : کیا چیز روایت کی؟ کہا : میں نے حَکم سے کہا : کیا رسول اللہﷺ نے شہدائے احد کی نماز جنازہ ادا فرمائی؟ تو انہوں نے جواب دیا : آپ نے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ( جبکہ ) حسن بن عمارہ نے حَکم ہی سے مِقسم کے حوالے سے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ روایت بیان کی کہ نبیﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کیا ۔ ( اسی طرح ) میں نے حَکم سے پوچھا : آپ اولاد زنا کے بار ے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا : ان کا جنازہ پڑھا جائے گا ۔ میں نے پوچھا : یہ روایت کس حوالے سے بیان کی جاتی ہے ، کہا : حضرت حسن بصری سے ( جبکہ ) حسن بن عمارہ نے کہا : ہم سے حَکم نے یحییٰ بن جزار کے حوالے سے یہ روایت حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے بیان کی ۔

حدیث نمبر :75
حدیث کی تائید : درست
میں نے حلف اٹھایا ہے کہ میں اس سے اور خالد بن محدوجد سے کبھی روایت نہ کروں گا ( اور کہا : ) میں زیاد بن میمون سے ملا ، اس سے ایک حدیث سنانے کا کہا تو اس نے مجھے وہ حدیث بکرمزنی سے روایت کر کے سنائی ، پھر ( کچھ عرصے بعد ) میں دوبارہ اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث مُوَرِّق سے بیان کی ، پھر ایک بار اور اس کے پاس گیا تو اس نے وہی حدیث حسن ( بصری ) سے سنائی ۔ وہ ( یزید بن ہارون ) ان دونوں ( زیاد بن میمون اور خالد بن محدوج ) کو جھوٹ کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ حلوانی نے کہا : میں نے عبد الصمد سے حدیث سنی اور ان کے سامنے زیاد بن میمون کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی

حدیث نمبر :76
حدیث کی تائید : درست
آپ نے عباد بن منصور سے بہت زیادہ روایتیں لی ہیں ، پھر کیا ہوا کہ آپ نے عطارہ والی روایت جو نضر بن شمیل نے ہمارے سامنے بیان کی ، ان سے نہیں سنی؟ انہوں نے مجھ سے کہا : خاموش رہو ، میں اور عبد الرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھتے ہوئے کہا : یہ احادیث جو تم حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہو ( کیا ہیں؟ ) تو وہ کہنے لگا : تم دونوں دیکھو کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے ، پھر توبہ کر لیتا ہے تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا‍! کہا : ہم نے کہا : ہاں ۔ اس نے کہا : میں نے ان ( احادیث ) میں سے انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کچھ نہیں سنا ، نہ کم نہ زیادہ ، اگر لوگ نہیں جانتے تو ( کیا ) تم دونوں بھی نہیں جانتے کہ میں انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے نہیں ملا! ۔ ابوداود نے کہا : پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ وہ ( وہی ) روایتیں بیان کرتا ہے تو میں اور عبد الرحمن اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا : میں توبہ کرتا ہوں ، پھر اس کے بعد بھی وہ وہی حدیثیں بیان کرتا تھا تو ہم نے اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیا ۔

حدیث نمبر :77
حدیث کی تائید : درست
میں نے بعد القدوس سے سنا ، کہتا تھا : رسول اللہﷺ نے ’’رَوح کو عَرض ‘ ‘ بنانے سے منع فرمایا ہے ( کہا ) اس سے کہا گیا : اس کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے کہا : مطلب یہ ہے کہ دیوار میں سوراخ رکھا جائے تاکہ اس میں ہوا داخل ہو ۔ ( امام ) مسلم نے کہا : میں نے عبید اللہ بن عمر قواریری سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حماد بن زید سے سنا ، وہ ( مہدی بن ہلال کے علمی مجلس منعقد کرنے سے چند دن بعد ) ایک آدمی سے کہہ رہے تھے : یہ نمکین چشمہ کیا ہے جو آپ کی طرف سے پھوٹا ہے؟ اس نے کہا : ہاں ، اے ابواسماعیل! ( آپ کی بات ٹھیک ہے).

حدیث نمبر :78
حدیث کی تائید : درست
عفان نے کہا : میں نے ابو عوانہ سے سنا ، کہا : مجھے حسن ( بصری ) سے کوئی حدیث نہ پہنچی مگر میں اسے ابان بن ابی عیاش کے پاس لے گیا تو اس نے اسے میرے سامنے پڑھا

حدیث نمبر :79
حدیث کی تائید : درست
پھر ( کچہ عرصے بعد ) میں حمزہ سے ملا تو اس نے مجھے بتایا کہ ا سنے خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھا تو وہ احادیث جو ابان سے سنی تھیں آپ کی خدمت میں پیش کیں ۔ آپ نے ان میں بہت معمولی حصے ، پانچ یا چھ حدیثوں کے سوا کسی چیز کو نہ پہچانا ۔